دنیا سے رخصت ہونے والوں کی عموماً چار اقسام ہوتی ہیں ؛
1۔ جس کے جانے سے صرف اس کے گھر والوں اور لوحقین کو صدمہ ہوتا ہے ۔
2 ۔ جس کی موت کو اس کے شہر اور علاقہ کے لوگ اپنے لیے صدمہ سمجھتے ہیں ۔
3۔ جس کی موت کے اثرات ملک کے جمیع اطراف و اکناف میں محسوس کئے جاتے ہیں ۔
4۔ جس کی موت سے نہ صرف باشندگان ملک بلکہ عالم اسلام میں لاتعداد لوگ متاثر ہوتے ہیں اور اس سے پیدا ہونے والے خلاء کو شدت سے محسوس کرتے ہیں ۔
ہمارے ممدوح حضرت مولانا پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ علیہ وہ جامع کمالات اور مجموعہ اوصاف شخصیت تھے جنہیں مذکورہ بالا چاروں اقسام میں یکساں طور پر محسوس کیا گیا, رویا گیااور ان کے صدمے کو اپنا صدمہ گردانا گیا ۔
دیانت و امانت , خلوص و للہیت, تقوی و تدین , زہد و و رع , دعوت و ارشاد , وعظ و تبلیغ , علم و فضل , تحقیق و دانش , ظاہر و باطن , ابلاغ توحید , اتباع سنت اور اپنے دینی مشن کی تکمیل کے لیے مر مٹنے کے جذبے سے سرشار وہ عظیم اسلاف کے عظیم وارث تھے ۔
آپ ’’ قل ان صلاتی و نسکی و محیایی و مماتی للہ رب العلمین ‘‘کے صحیح علم بردار تھے ۔ زندگی کا کوئی لمحہ اللہ کی رضا کے بغیر صرف نہیں کیا ۔ وہ جہاں بھی گئے توحید و سنت کی ضیا پاشیوں سے وہ علاقہ بقعہ نور بن گیا , وہ جہاں بھی بیٹھے دبستان کھل گیا ۔
آہ ! 21 اپریل 1991ء کو 78 سال کی عمر میں انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا ۔
حافظ عبداللہ صاحب کا اصلاً تعلق موضع ڈگری تحصیل روپڑ ضلع انبالہ مشرقی پنجاب سے ہے ۔ اب روپڑ بھی ضلع بن چکا ہے اور انبالہ صوبہ ہریانہ میں شامل کر دیا گیا ہے ۔ حافظ صاحب کے والد مرحوم مولوی نور محمد گجر برادری کے چشم و چراغ تھے ۔ انتہائی نیک , مخلص, خدا ترس اور مجسم دعوت تھے ۔ اندازہ فرمائیں وہ کاشت کاروں کو جب وہ ہل جوتے ہوئے ‘ مصروف کار ہوتے ‘ تو ان کے ساتھ ساتھ چلتے اور انہیں کہتے کہ آپ اپنا کام جاری رکھیں اور اپنی توجہ میری طرف موڑ دیں ۔ پھر ان کو دو چار مسئلے بتاتے ۔ پھر دوسرے کاشتکار کے پاس جاتے ۔ پھر اسی طرح اور دیگر کسانوں کے ساتھ اسی طرح تبلیغ دین فرماتے ۔ ان سے کسی نے دریافت کیا کہ حضرت آپ اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں ۔ جواب میں کہتے کہ یہ بیچارے کسان کاروبار زندگی میں ایسے منہمک ہیں کہ انہیں وعظ و تبلیغ سننے کے لیے فرصت میسر نہیں ۔ میں چاہتا ہوں ان کی مصروفیت قائم رکھتے ہوئے بھی انہیں دینی احکام کی تبلیغ کرناچاہیے ۔ انہی کے صاحبزادے مولانا پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری تھے ۔ اور یہ بات علی وجہ البصیرت کہی جا سکتی ہے کہ زندگی بھر حافظ عبداللہ مرحوم نے وعظ و تبلیغ اور خطبہ جمعہ کی پائی تک وصول نہیں کی ۔ جو کام کیا للہ کی رضا مندی کے لیے کیا اور ہمیشہ انبیاء کا موقف ’’ ان اجری الا علی اللہ‘‘ قائم رکھا حقیقت یہ ہے کہ حافظ صاحب ’’الولد سر لابیہ ‘‘ کے صحیح آئینہ دار تھے ۔ مولانا نور محمد مرحوم نے حافظ صاحب کو اپنے مزاج کے مطابق دینی علوم کی تحصیل کے لیے وقف فرمایا ۔ چنانچہ قیام پاکستان سے کافی پہلے حافظ صاحب جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن میں ( جو اس وقت اوڈانوالہ میں تھا ) چھوڑ گئے ۔ حافظ صاحب نے اس وقت کے جید اساتذہ سے خوب اکتساب فیض کیا اور پنجاب یونیورسٹی کے مولوی فاضل کے امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کی ۔ ہندوستان میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ معیار تعلیم , وضع داری اور رکھ رکھاؤ کے اعتبار سے عالمی شہرت رکھتی تھی ۔ کسی کے نام کے ساتھ علیگ کا لاحقہ اس کی عظمت و ثقاہت اور عظیم دانشور ہونے کا ثبوت سمجھا جاتا تھا ۔ حافظ صاحب مرحوم نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں داخلہ لے کر نمایاں حیثیت سے انٹر کیا ۔ قیام پاکستان کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور ان کا تقرر ایس۔ ای کالج بہاولپور میں بطور لیکچرر ہو گیا ۔ ریاست بہاولپور میں اگرچہ تحریک اہلحدیث کے برگ و بارکافی عرصہ پہلے پہنچ چکے تھے ۔ مولانا عبدالحق محدث احمد پوری اور پھر ان کے جانشین مولانا عبدالرزاق رحمہ اللہ کی تبلیغ مسلم ہے ۔ مسجد عباسیہ اور ٹاہلی والی مسجد احمد پور شرقیہ میں ہمارے دو دینی مرکز تھے ۔ مولانا ابو محمد عبدالحق مرحوم ایک گمنام عالم کی مساعی بھی قابل قدر ہے ۔ مولانا سلطان محمود جلال پوری کا تعلق بھی سابق ریاست بہاولپور سے ہے ۔ الہ آباداور خان پور میں بھی ہماری جماعتیں قدیم عرصہ سے چلی آرہی ہیں ۔ بہاولنگر کے قریب موضع چاوے اہلحدیثوں کا دینی مرکز تھا ۔ چونکہ ریاست بہاولپور ایک حنفی ریاست تھی اس لیے یہاں حنفیت کو تغلب و تعلب حاصل تھا ۔
ارضی اعتبار سے ریاست بہاولپور بڑی زرخیز ریاست تھی ۔ لیکن مسلکی اعتبار سے یہ علاقہ بڑا بنجر تھا ۔ ہیڈ سلیمانکی اورپنجند سے جب عباسیہ اور صادقیہ نہریں نکلیں تو اضلاع فیروز پور , امرتسر , جالندھر, انبالہ اور دیگر علاقوں سے آباد کار بسلسلہ حصول اراضی وہاں پہنچ کر فروکش ہوئے تو ان میں تحریک عمل بالحدیث کے علم بردار بھی تھے ۔ متعدد دیہات اور موضعات میں ہماری اہل حدیث مساجد قائم ہو گئیں ۔ قیام پاکستان کے بعد مشرقی پنجاب کے مختلف علاقوں سے عالمین حدیث بھی اقامت پذیر ہوئے ۔ لیکن ان میں شیرازہ بندی اور نظم و ضبط کا فقدان تھا جب سے مولانا حافظ عبداللہ بہاولپوری نے بہاولپور میں ڈیرے ڈالے تو بہاولپور شہر میں کہیں کوئی چھوٹی سی اہلحدیث کی مسجد تھی ۔ جو کسی گمنام جگہ میں واقع تھی ۔ حضرت حافظ صاحب نے مہاجر کالونی میں اپنے مکان کا ایک حصہ مسجد کے لیے وقف کیا ۔ جمعہ و جماعت شروع کردی اور مسلک کے فروغ کے لیے طرح ڈال دی ۔ آج بحمد للہ اسی بہاولپور میں دو درجن سے زائد مساجد میں خطبات جمعہ کا اہتمام ہے ۔ جامع مسجد اہل حدیث شکار پوری گیٹ اور جامع مسجد اہل حدیث ون یونٹ حاصل پور روڈ ہماری عظیم الشان شاہی مساجد ہیں ۔ یہ تمام ’’قال اللہ و قال الرسول ‘‘کی دل نواز صدائیں حضرت حافظ بہاولپوری رحمہ اللہ علیہ کا صدقہ جاریہ ہیں ۔ انہوںنے صرف شہر ہی نہیں بلکہ ریاست بھر کے دیہات و قصبات کو اپنی تبلیغی جولان گاہ بنایا ۔ آج بحمدللہ دور افتادہ دیہات اور بستیوں سے قطع نظر سمہ سٹہ, احمد پور شرقیہ , چنی گوٹھ, اچ شریف , لیاقت پور , الہ آباد , فیروزہ , خان پور , صادق آباد , منٹھار, ماچھی گوٹھ , یزمان , خیرپور ٹامے والی , ڈیرہ بھکا , حاصل پور , منڈی چشتیاں , ڈاہراں والہ , ہارون آباد , فقیر والی , کھچی والا , فورٹ عباس , مروٹ, منچن آباد , منڈی صادق گنج, میکلوڈروڈ, گلاب علی , حافظ والا , ڈونگہ بونگہ اور دیگر قصبات میں ہماری ممتاز اور مخلص جماعتیں مسلک کے لیے شب و روز اپنی مساعی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ حافظ صاحب مرحوم کی مساعی کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے؛
شورش عندلیب نے روح چمن میں پھونک دی
ورنہ  یہاں  کلی کلی  محو  تھی خواب ناز  میں
حافظ صاحب موصوف کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ وہ اولاً , آخراً, ظاہراً , باطناً, شرقاً , غرباً , جنوباً , شمالاً اہل حدیث تھے اور مسلک اہل حدیث کے فروغ کے لیے شہد سے میٹھی زبان اور تلوار سے زیادہ کاٹ کرنے والے دلائل رکھتے تھے ۔ کچھ لوگ مسلک کی وابستگی کے اعتبار سے انہیں متشدد گردانتے تھے لیکن حقیقت یہ ہے وہ وقتی مصلحتوں , سیاسی مفاد پرستیوں اور دنیوی خود غرضیوں سے بہت اعلیٰ اور بالا تھے ۔ آپ انہیں شمشیر برآں بھی کہہ دیں تو مبالغہ نہیں ۔ ان کے پیش نظر ایک ہی بات تھی کہ مسلک کی حقانیت کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا جائے ۔ تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی کو وہ مسلک کے لیے سم قاتل سمجھتے تھے ۔ دیوبندیوں کی توحید کو سنت کے بغیر وہ دینی طور پر ادھورا سمجھتے تھے ۔ تقلید جامد, برادریوں کے رسم و رواج , نفاق , مداہنت اور مسلک کے بارے میں تساہل و تغافل کو وہ انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان کے خطبات و تقاریر کا اکثر موضوع ان کی اصلاح ہوتا تھا ۔ وہ جہاں گئے وہاں انہوں نے اہل حدیث کی مسجد بنوائی اور جماعت قائم کی اور اس کا سرکاری طور پر رد عمل بھی برداشت کرنا پڑا لیکن وہ بہادر اور اولوالعزم انسان تھے ۔ اس قسم کی رکاوٹیں ان کی راہ میں سد راہ نہ بن سکیں ۔ نہ وہ جدت پسند تھے اور نہ وہ جدید پسند تھے ۔ سادگی ان کا زندگی بھر معمول رہا ۔ کالج ٹائم کے بعد وہ ہمیشہ دھوتی پوش رہے ۔ بعض اوقات بڑے بڑے جلسوں میں دھوتی سمیت ہی خطابات فرمائے ۔ فیشن , مادیت اور ماحول کی جذب و کشش کبھی بھی انہیں متاثر نہ کر سکی ۔ زندگی بھر ہمیشہ انہوں نے بھینس رکھی ۔ دودھ اور دیسی گھی کے سلسلے میں بڑے ہی باذوق انسان تھے بلکہ بھینس ان کی کمزوری تھی۔ اچھی بھینس کی پیشکش کرکے ان کو دور دراز کے سفروں پر بھی احباب آمادہ کرلیتے تھے ۔ طمع و لالچ اور حرص و آز ان کے قریب تک نہ پھٹکتے ۔ ان کی بے نفسی , بے نیازی اور خلوص کا یہ عالم تھا کہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد گریجوئیٹی کی بیشتر رقم مسلک کی تبلیغ کے لیے پجارو نامی گاڑی خرید کر مخصوص کردی ۔ تعیش نام کی کوئی چیز ان کے یہاں قطعاً ممنوع تھی ۔ خود سادہ زندگی بسر کی , گھر کا ماحول بھی سادہ رکھا , بچوں کو بھی سادگی کا عامل اور حامل بنایا ۔ گھر کے ماحول میں پردہ وغیرہ کے سلسلے میں شریعت کی صحیح پابندی اختیار کیے رکھی ۔ ان کے مکان کو دیکھ کر کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ یہ کسی پروفیسر یا پرنسپل کی کوٹھی ہے ۔ وہ مروجہ جمہوریت کے بھی قائل نہیں تھے ۔ کچھ عرصہ پاکستان میں مسلح انقلاب کے لیے بھی سوچ بچار کرتے رہے ۔ پوری زندگی بے نیازی اور وضع داری سے بسر کی ۔ کوئی بھی پیشکش انہیں اپنی طرف متوجہ نہ کر سکی ۔ مسلک اور مشن سے ان کو کس قدر لگاؤتھا اس سے اندازہ کیجیے کہ سنیارٹی کے اعتبار سے انہیں پرنسپل بننے کے آرڈر آچکے تھے لیکن شرط یہ تھی کہ انہیں بہاولپور چھوڑنا پڑے گا ۔ انہوں نے کمال بے نیازی اور پوری اولوالعزمی سے مسلک کے فروغ کی دہلیز پر نسپل کا عہدہ نچھاور کر دیا ۔ محکمہ تعلیم ان کے تبادلے پر بضد رہا ۔ دو تین سال کی کشمکش کے بعد بالآخر محکمہ تعلیم کو ان کی استقامت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔ سلفی مزاج , سلفی الذہن اور سلفی الفکر انسان تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے گفتگو کا طریقہ اور قرینہ انہیں خوب عطا فرمایا تھا ۔ سوال و جواب کے وہ بادشاہ تھے ۔ وہ جب بھی خطاب فرماتے تو سامعین اور نوجوانوں کو سوالات کرنے کا موقع دیتے اور پھر اپنے فاضلانہ مدلل جوابات سے نہ صرف قائل کرتے بلکہ اکثریت کو قافلہ عمل بالحدیث میں شامل کر لیتے ۔ یونیورسٹیوں اورکالجوں کے طلبہ کی تعلیم و تربیت ان کا سب سے برا مشن تھا ۔ چنانچہ جامع مسجد اہل حدیث شکارپوری گیٹ بہاولپور میں انہوں نے یونیورسٹی اور کالج کے طلبہ کے لیے دارالاقامہ تعمیر کروایا اور ان کو رہائش کی سہولتیں مہیا کیں ۔ پھر قرآن وحدیث کی روشنی میں تربیت کے تقاضے اس انداز سے پورے کیے کہ وہ نہ صرف ان کے ہمنوا بن گئے بلکہ وہ دینی دانشور اور مبلغ بن گئے اور ’’ عبداللہ فاضل ‘‘ نوجوانوں کی ایسی کھیپ تیار ہو گئی جو ملک بھر میں پورے خلوص اور بے لوثی سے مسلک کاپرچار کرتے ہیں ۔ بلکہ حافظ صاحب کی اس دینی تربیت نے ان پر ایسا رنگ چڑھایا کہ لوگ انہیں بہاولپوری برانڈ کے نام سے تعبیر کرنے لگے ۔ حضرت حافظ صاحب نہ ہی مصلحت بیں تھے اور نہ ہی مصلحت کوش ۔ فکر فردا سے بھی وہ بے نیاز تھے اور نہ غم دوش میں محو ۔ بے باکی , حق گوئی اور راستبازی ان کا شعار تھا ۔ مہمان نوازی ان کا امتیازی وصف تھا ۔ ذوق تحقیق مسائل میں وہ فخر الاماثل تھے ۔ ان کی دوستی دشمنی کی بنیاد ’’ الحب فی اللہ والبغض فی اللہ ‘‘ پر استوار تھی ۔
حضرت حافظ صاحب کے دروس نے پڑھے لکھے طبقے کو بڑی تیزی سے متاثر کیا ۔ ان کے درس قرآں کا یہ اسلوب تھا کہ پہلے زیر نظر آیت کا لفظی ترجمہ کرتے تھے , پھر بامحاور ہ انداز سے سامعین کے دل میںبات اتارتے اور مختلف مقاموں کی مختصرتفسیر کرتے ۔ اگر سامعین میں سے کوئی درمیان میں سوال کرتا تو اس کا مدلل اور مفصل جواب دیتے ۔ ان کا یہ انداز بہت مقبول ہوا ۔ وہ ہر ایک کے حفظ مراتب کا خیال رکھتے اور اپنے پرانے قریبی ساتھیوں کو کسی غلطی پر ڈانٹ بھی دیتے تھے لیکن کسی نئے ساتھی کے لئے انہوں نے کبھی سخت الفاظ استعمال نہ کئے ۔ تعلیم و تربیت کے ڈھنگ اور اسلوب خوب جانتے تھے ۔ داڑھی رکھنے کے لئے کبھی کسی کو مجبور نہ کرتے لیکن اپنے خطبات میں اکثر اس کی اہمیت بیان کر دیتے ۔ اس لئے آپ دیکھیں گے کہ بہاولپور اورآس پاس کے نوجوانوں میں کس قدر انقلاب برپا ہوا ہے ۔ کثرت سے داڑھی والے نوجوان آپ کو نظر آئیں گے ۔ یہ تبدیلی اللہ کے فضل و کرم اور حضرت حافظ صاحب کے اخلاص اور شبانہ روز کی مسلسل محنتوں اور کاوشوں کا نتیجہ ہی ہے ۔
جب انہوں نے بہاولپور میں جامع مسجد شکار پوری گیٹ کی بنیاد رکھی تو اس کی تعمیر میں بذات خود بھی مصروف کار ہوئے ۔بڑی عمر کے باوجود بھاری گارڈر اپنے کندھوں پر رکھ کر مسجد کی چھت پر چڑھائے ۔ اسی سے ان کے اخلاص اور دین کے فروغ سے ان کے قلبی تعلق کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔
حضرت حافظ صاحب کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر ایک مبسو ط کتاب وجود میں لائی جا سکتی ہے ۔ جس میں ان کی زندگی کے مختلف گوشوں کا احاطہ کیا گیا ہو ۔ حضرت حافظ صاحب کے اشتراک و عدم تعاون کی بنیاد ’’ وتعاونو ا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ‘‘ تھا ۔ اور وہ زندگی بھر اسی اصول پر شریعت کے نفاذ اور کتاب و سنت کی بالا دستی کے لئے جہا د کرتے رہے ۔
ان کے اٹھ جانے سے بہاولپور اداس ہے ۔ ان کی مسجد کی اداسی کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے ؛
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
بلکہ بہاولپور کی اداسی کو یہ مصرعہ صحیح بیان کرتا ہے :
مجنوں جو چل بسا تو جنگل اداس ہے
ان کے خلاء کو دیکھ کر عرب شاعر کی زبان میں کہہ سکتے ہیں :
وما کان ھلک قیس ھلک واحد
و لکن     بنیان     قوم     تھدمھا
حضرت حافظ صاحب کی وفات کی خبر اگرچہ ریڈیو اور ٹیلی فون کے ذریعے ملک بھر میں پہنچ گئی تھی لیکن بہت سے حلقے اور مقامات ایسے بھی تھے جہاں ان کی وفات کی خبر بروقت نہ پہنچ سکی لیکن بایں ہمہ ملک کے کونے کونے سے ہزاروں علماء , صلحاء , طلبہ , دانشور , اہل دل , اہل درد , ارباب بصیرت , اصحاب تقویٰ وہاں پہنچے ۔ مولانا ارشادالحق اثری نے بڑے درد دل اور خشوع و خضوع سے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ حقیقت یہ ہے کہ بہاولپور میں ایک تاریخی قسم کا جنازہ تھا ۔ ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں آہوں , سسکیوں اور دعاؤں سے انہیں لحد میں اتارا گیا ۔
اور اس کے ساتھ ہی ریاست بہاولپور کی تاریخ کا ایک آفتاب غروب ہو گیا ۔
(استفادہ از “مجلۃ تعلیم الاسلام ” جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن کا ترجمان )