حافظ صلاح الدین یوسف
جماعت کے حلقوں تک یہ المناک اطلاع پہنچ ہی چکی ہے کہ گزشتہ ہفتے21 اپریل 1991ء بمطابق 6 شوال 1411ھ بروز اتوار پروفیسر حافظ محمد عبداﷲ صاحب انتقال فرما گئے۔ انا ﷲ و انا الیہ راجعون پروفیسر صاحب مرحوم کی شخصیت جماعت اہل حدیث میں محتاج تعارف نہیں ۔ مرحوم جہاں اپنے علم و عمل  زہد و ورع ‘ سیماب پائی اور سادگی و اخلاص کے لحاظ سے بے مثال تھے وہاں دوسری طرف دعوت و تبلیغ و دل سوزی و درد مندی کے بے پایاں جذبات کے اعتبار سے بھی اپنے اقران و اماثل میں ایک نہایت ممتاز مقام کے حامل تھے۔
جماعت کے اہل علم جانتے ہیں کہ پروفیسر صاحب مرحوم نے سرکاری ملازمت کے باوجود اپنے علاقے ریاست بہاول پور اور اس کے نواح میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ جس بے خوفی ‘ اخلاص ‘ دل سوزی اور جس لگن اور محنت سے ادا کیا ہے ‘ اس کی سعادت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کی مساعی حسنہ کے نتیجہ میں بہاول پور اور اس کے قرب و جوار میں تحریک عمل بالحدیث کو ایک نئی توانائی اور قوت ملی ہے‘ ایک نیا ولولہ اور جذبہ ملا ہے اور ایک نیا جوش و خروش حاصل ہوا جس سے تحریک کی منجمد رگوں میں تازہ خون دوڑنے لگا ہے اور اہل حدیث کو ایک نئی زندگی نصیب ہوئی ہے ۔ الحمدﷲ۔! ان کی کوششوں سے ہزاروں افراد تقلید کی تاریکیوں سے نکل کر عمل بالحدیث کی روشنی میںآئے ہیں۔ رسم و رواج کی جکڑ بندیوں کو توڑ کر خالص اسلام کی طرف آئے ہیں اور علم و عمل کی نئی جہتوں سے روشناس ہوئے ہیں۔
علاوہ ازیں سرکاری جامعات و مدارس میں بھی ان کے تلامذہ و فیض یافتگان کا ایک موثر گروہ تیار ہو چکا ہے‘ جو عمل بالحدیث کا عمدہ نمونہ ہے اور دعوت و تبلیغ میں انہی کے سے جذبات کا حامل اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے میں کوشاں اور مصروف عمل ہے۔ کثر اﷲ سوادھم ونصرھم بحولہ و قوتہ
حافظ صاحب مرحوم نے اپنے دائرہ عمل کو بہاول پور اور اس کے نواح تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ وہ ملک کی اہم مساجد و مراکز میں بھی پہنچے اور وہاں بھی دعوت کا وہ پیغام پہنچایا‘ جس کے لیے وہ ہر وقت بے قرار رہتے تھے اور وہ یہ سارا کام ‘ محض رضائے الٰہی کے لیے کرتے رہے۔ اس سے ان کا مقصود کوئی شہرت حاصل کرنا نہ تھا۔ مالی مفاد کا حصول نہیں تھا۔ جاہ و امارت کی طلب نہیں تھی۔ ان کے پیشِ نظر صرف ایک ہی مقصد تھا‘ ایک ہی لگن ان کو بے چین کیے ہوئے تھی‘ ایک ہی جذبے نے ان کو مضطرب کر رکھا تھا اور ایک ہی فکر میں وہ شب و روز غلطاں و پیچاں رہے۔ وہ مقصد اور لگن کیا ہے ؟ وہ جذبہ و فکر کیا ہے ؟ دو لفظوں میں یہ ہے۔ مسلمانوں کے عقیدہ و عمل کی اصلاح۔۔!
حافظ صاحب مرحوم چاہتے تھے کہ مسلمان جو طرح طرح کی اعتقادی و فکری غلطیوں کا شکار ہیں ان سے بچ جائیں۔ کوئی جمہوریت کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہے تو کوئی شاہد مغرب کی عشوہ طرازیوں سے مسحور ‘ کو ئی شوشلزم کے دام ہمرنگ زمین میں پھنسا ہوا ‘ کوئی کیپٹل ازم کے فتراک کا نخچیر ‘ کوئی تقلید کی جکڑ بندیوں میں کسا ہوا ہے‘ تو کوئی شرک صریح میں مبتلا ہے۔ علاوہ ازیں بدعات کے جھکڑ ہیں۔ الحاد و زندقہ کا طوفان ہے ‘ انکار حدیث اور تجدد کا فتنہ ہے۔ مغربیت کا سیلاب ہے اور بدعملی ‘ مذہب بیزاری اور خدا فراموشی کا عام رجحان ہے۔ فکر و نظر اور اعتقاد و عمل کی ان سب خرابیوں کا علاج صرف اہل حدیث کے پاس ہے ‘ لیکن افسوس ہے کہ اہل حدیث کے ایک گروہ میں تو سیاست کاری کے رجحانات نے جمہوریت جیسے غلط نظام کے حق میں نرم گوشہ پیدا کر دیا ہے جبکہ دیگر افراد کا دامن عمل سے خالی ہو گیا ہے۔ اہل حدیث ‘ جو عمل بالحدیث کا علمبردار تھا‘ اب اس کے کردار وعمل میں معیشت ومعاشرت اور تجارت و کاروبار میں جذبہ عمل بالحدیث کی وہ جھلک نظر نہیں آتی جو اہل حدیث کا طرہ امتیاز تھا۔ یوں اہل حدیث بھی ’’ زمانہ با تو نہ سازد تو بازمانہ ستیز‘‘ کی بجائے ’’ تو با زمانہ بساز‘‘ یعنی ع
چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
کی پامال روش پر چل پڑے ہیں۔
حضرت مرحوم دیگر انہی کی طرح جذبات رکھنے والے علما وزعما کی طرح ‘ اس صورت سے سخت مضطرب اور پریشان تھے۔ وہ دیکھ دیکھ کر خون کے آنسو روتے تھے کہ اہلحدیث کی اب صرف مساجد کی چار دیواری کے اندر محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ مساجد سے باہر کردار و عمل کے اعتبار سے اہل حدیث اور غیر اہل حدیث میں کوئی فرق نہیں رہ گیا ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر اہل حدیث اور غیر اہل حدیث کا امتیاز ختم ہو گیا ہے‘ معیشت و معاشرت اور تجارت و کاروبار میں اہل حدیث کی کوئی امتیازی خصوصیت نظر نہیں آتی۔ گویا
مژدہ باد اے مرگ! عیسیٰ آپ ہی بیمار ہے
والی کیفیت رونما ہو گئی ہے۔ جو اصلاح کا علمبردار تھا ‘ وہ خود فساد کا شکار ہے‘ جو داعی الی اﷲ تھا وہ خود نفس و ہویٰ کا غلام ہے‘ جو رسوم و رواج کے خلاف جہاد کرنے والا تھا اس نے خود اپنے حریم دل کے طاقوں میں رسوم و رواج کے بت سجا لیے ہیں جن کی وہ پرستش کر رہا ہے۔
اہل حدیث کے بگاڑ کی یہ کیفیت اور دین سے بعدو بیگانگی بہت بڑا المیہ ہے‘ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اب خالص اسلام کی دعوت دینے والا کوئی نہیں رہا‘ فکر و نظر کی کجیوں کی نشاندہی کرنے والا کوئی نہیں رہا۔ اعتقاد و عمل کی گمراہیوں پر ٹوکنے والا کوئی نہیں رہا اور رسوم و رواج کے خلاف جہاد کرنے والا کوئی نہیں رہا اور یوں بے دینی کے سیلاب کی راہ کا یہ آخری بند بھی ٹوٹ گیا ہے‘ اس حصار اسلام میں شگاف پڑ گیا ہے اور توحید و سنت کا وہ چراغ بھی گل ہو گیا ہے جس سے اس تیرہ و تا ریک ماحول میں روشنی کی کچھ کرن موجود تھی۔
حضرت پروفیسر حافظ محمد عبداﷲ صاحب مرحوم بھی اسی صورت حال سے سخت کبیدہ خاطر اور دل برداشتہ تھے۔ چنانچہ انھوں نے دعو ت و اصلاح کا علم بلند کیا اور اس جمود کے خلاف آواز بلند کی جس میں اس وقت اہل حدیث مبتلا ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ اہل حدیث از سر نوع اہل حدیث بنیں ‘ اپنے ایمان و عمل کی تجدید کریں‘ نفس پرستی ‘ رواج پرستی اور مفاد پرستی چھوڑ دیں اور اپنے اسلاف کی طرح مکمل اہل حدیث بنیں۔ تقویٰ و عمل سے وہ آراستہ ہوں جن میں معاشرتی برائیاں نہ ہوں‘ کردار وعمل کی کوتاہیاں نہ ہوں‘ رسوم و رواج کے شیدائی نہ ہوں بلکہ ان سے باغی ہوں اور وہ مسجد ہی میں اہل حدیث نہ ہوں بلکہ ان کے گھروں میں پردے کی پابندی ہو‘ ان کے گھر موجودہ دور کی فحاشی و عریانی (ٹیلی ویژن ‘ وی سی آر وغیرہ )سے پاک ہوں۔تصاویراور بے جاآرائشوں سے پاک ہوں‘ وہ امانت و دیانت کے پیکر ہوں ‘ وہ صداقت اور راست بازی کے نمونے ہوں۔ وہ امانت و دیانت کے پیکر ہوں‘ وہ صداقت و راست بازی کے نمونے ہوں اور وہ سیرت و کردار اور شکل و صورت میں نمایاں اور ممتاز ہوں۔
اﷲ تعالیٰ نے حافظ صاحب مرحوم کو اخلاص و ہمدردی کے جذبات فراواں کے ساتھ استدلال و بیان کی قوت سے بھی نوازا تھا۔ ان کا انداز خطابت نہایت مؤثر‘ بلیغ اور طرز استدلال دلوں میں اتر جانے والا تھا۔ وہ الفاظ کے طوطا مینا اڑاتے تھے نہ واعظان شیریں مقال کی طرح آواز کا جادو جگاتے تھے۔ ان کی باتیں بالکل سادہ اور طرز تکلم بے ساختہ ہوتا‘ تاہم وہ جوکچھ کہتے چونکہ وہ ان کے اخلاص بھرے دل کی آواز ہوتی تو وہ ’’از دل خیزد برد ل ریزد ‘‘
دل  سے  جو بات نکلتی  ہے  اثر رکھتی ہے
پر  نہیں‘  طاقت  پرواز  مگر  رکھتی  ہے!
کا آئینہ دار ہوتیں۔ اس لیے ان کی خطابت میں گھن گرج نہیں تھی‘ لیکن اس میں اس طوفان کی سی قوت ضرور موجود تھی جس سے دریاؤں کے دل دہل جاتے ہیں۔ وہ اپنی جادو بیانی سے مجمع کو مسحور نہیں کرتے تھے‘ البتہ استدلال کے تانے بانے سے سامعین کو ہمنوائی پر مجبور کر دیتے۔ وہ اپنی تقاریر و خطبات میں عوام کو فضائل کی میٹھی گولیاں نہیں دیتے تھے بلکہ ایک طبیب کامل کی طرح زخموں اور بیماریوں کی نشاندہی کرتے اور ماہر سرجن کی طرح نشتر زنی سے فاسد مواد نکالنے کی کوشش کرتے جس سے اگرچہ کچھ چبھن اور تکلیف تو ضرور ہوتی ‘ لیکن درحقیقت یہ نشتر شدت مرض سے کراہنے والے مریضوں کے لیے پیغام شفا ہوتے ہیں۔
کتنے ہی خوش نصیب ہیں جنھوں نے پروفیسر مرحوم کے وعظ و بیان کے آب حیات سے اپنے دلوں کی کشت ویراں کو سیراب کیا ہے‘ کتنوں ہی نے ان کے جرعہ ہائے تلخ کو نوش جاں کر کے باطنی بیماریوں سے نجات حاصل کی ہے اور اسی طرح بہت سے لوگوں کے لیے ان کی نشتر زنی شرک و بدعت اور جہل و تقلید کے فاسد مواد سے شفایابی کا باعث بنی ہے۔ اﷲ تعالیٰ ان کی یہ خدمات قبول فرمائے اور انھیں آخرت میں اس کی بہترین جزاء عطا فرمائے‘ آمین۔!
پروفیسر صاحب مرحوم کا صاحب زادہ عبدالرحمٰن الولد سرلابیہ کے مصداق اپنے والد مرحوم کی طرح دعوت و تبلیغ کے جذبہ سے سرشار اور خطابت و بلاغت کی ان خوبیوں سے آراستہ ہے جو حافظ صاحب مرحوم کو قدرت نے ودیعت کی تھیں۔ کئی سالوں سے یہ صاحب زادہ گرامی قدر سعودی عرب میں مقیم ہے۔ ہم موصوف سے عرض کریں گے کہ وہ سعودی عرب سے واپس آ جائیں اور اپنے والد مرحوم کی اس مسند کو رونق بخشیں جس میں اگرچہ دولت دنیا تو نہیں ہے لیکن آخرت کی بے پایاں نعمتوں کی امید ضرور ہے۔ اپنے ’’امروز‘‘ کو اس ’’فردا‘‘ پر قربان کر دیں تاکہ وہ فکر ‘ جذبہ اور تحریک جاری رہے جس کا پرچار ان کے والد مرحوم کرتے رہے۔ وہ آواز بند نہ ہو جو ان کے والد مرحوم نے نہایت اخلاص اور دل سوزی کے ساتھ بلند کی ہے اور اس پیغام کو ہر اہل حدیث تک پہنچانے کی کوشش کریں جو حافظ صاحب مرحوم پہنچاتے رہے ہیں۔ کیونکہ اہل حدیث کی عظمت اسی پیغام میں مضمر ہے۔ اس کی نشأۃ ثانیہ اسی تحریک سے وابستہ ہے اور اس کی کامیابی تمام تر اسی فکر سے مربوط ہے اور اہل حدیث کی عظمت اسلام کی عظمت ہے‘ اس کی نشأۃ ثانیہ اسلام کی نشأۃ ثانیہ ہے اوراس کی کامیابی اسلام کی کامیابی ہے۔ کیونکہ اہل حدیث اور اسلام اصل میں دونوں ایک ہیں۔ یہ ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں‘ ایک ہی ہیولیٰ کے دو پیکر ہیں‘ اور ایک ہی تصویر کے دو پہلو ہیں۔
ہمیں امید ہے کہ صاحب زادہ گرامی قدر پروفیسر عبدالرحمٰن صاحب سلمہ اﷲ تعالیٰ حافظ صاحب مرحوم کی مسند وعظ و ارشاد پر فروکش ہو کر والد مرحوم کی جانشینی کا حق ادا کریں گے۔ وَاﷲُ ھُوَ الْمَوَفِّقُ وَالْمُعِیْنُ
(الاعتصام ۳ مئی ۱۹۹۱ء )